عمر طبعی

قسم کلام: اسم ظرف زماں

معنی

١ - اصلی مدت حیات، پیدائش سے موت تک کا پورا زمانہ، کسی آدمی کے جینے کی مدت، ذی حیات کی مدت عمر۔ "موت زندگی کی حرکت کا ایک مظہر ہے بلکہ زندگی کو پرمایہ بنانے، اسے زندہ رہنے کے لائق بنانے اور عمر طعبی کو ذرا طول دینے کا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، نقد حرف، ٢٢٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عمر' کے آخر پر کسرۂ صفت لگا کر عربی ہی سے متشق اسم صفت 'طعبی' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٨٤٩ء کو "قصۂ اگر گل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اصلی مدت حیات، پیدائش سے موت تک کا پورا زمانہ، کسی آدمی کے جینے کی مدت، ذی حیات کی مدت عمر۔ "موت زندگی کی حرکت کا ایک مظہر ہے بلکہ زندگی کو پرمایہ بنانے، اسے زندہ رہنے کے لائق بنانے اور عمر طعبی کو ذرا طول دینے کا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، نقد حرف، ٢٢٩ )

جنس: مؤنث